اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے عالمی تنہائی کا خوف
امریکی صدر نے اسرائیل کو تنہائی کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے عالمی برادری میں تنہائی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں اور واقعات
امریکی صدر نے اسرائیل کو تنہائی کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے عالمی برادری میں تنہائی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یورپی یونین کی صدر کاجا کالس نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کو پورے یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بیان یورپی یونین کی صدر کاجا کالس نے دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بیروت کی جانب فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بیروت کی جانب فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھنے کی بھی информیشن دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے نئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بیروت کی جانب فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت تیزی سے آگے بڑھنے کی بھی تصدیق کی ہے۔
ایران نے اسرائیل کے حزب اللہ پر حملے پر مذاکرات معطل کرنے کی دھمکی دی تھی، ایران کے عہدے داروں نے اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بعد ایران نے بھی اپنی طرف سے جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے بیروت پر منصوبہ بند فوجی حملے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل کے اس قدم کے پس منظر میں کیا معانی نکالے جا سکتے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے یہ فیصلہ کس طرح کے региональ اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔
مارسِنکو کو ایپسٹین کیس میں شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔ اُنھیں 2008 کی پلی بارگین کے تحت قانونی کارروائی سے استثنی دیا گیا تھا۔ مارسِنکو نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔
مارسینکو اُن چار خواتین میں شامل ہیں جنھیں 2008 کی پلی بارگین میں ایپسٹین کے ’ممکنہ شریکِ جرم‘ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ یہ خواتین ایپسٹین کے مبینہ جنسی غلط کارروائیوں میں شامل تھیں۔ اس معاملے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے تین افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔ بے روزگاری اور خراب صحت کا نظام لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں کمی کی وجہ سے حالات مزید بہتر نہیں ہو رہے۔