امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کے ابتدائی دور میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایران کی حکومت کو گرانے کے لیے اپنی فضائی طاقت کو کافی بتایا تھا۔ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کے ملکوں کی فضائی طاقت تہران میں موجود حکومت کو گرانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن وہ غلط تھے۔ ایران کی حکومت نہ صرف قائم ہے بلکہ وہ اپنی địa سیاسی حکمت عملی کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے۔ ایران کی حکومت نے اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ایران کی فوجی قوت نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیا ہے۔ ایران کی حکومت کے قائم رہنے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ ان میں سے ایک ایران کی قومی یکجہتی ہے۔ ایران کے عوام نے اپنی حکومت کی حمایت کی ہے اور وہ اپنے ملک کی دفاع کے لیے تیار ہیں۔ ایران کی حکومت نے بھی اپنے عوام کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے ہیں اور وہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ایران کی حکومت کے قائم رہنے کا ایک اور因ہ یہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ایران کی فوجی قوت نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیا ہے۔ ایران کی حکومت نے اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ایران کی فوجی قوت نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیا ہے۔ ایران کی حکومت کے قائم رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے عوام کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے اور وہ اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔ ایران کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرے اور وہ اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے تاکہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کر سکے۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا حقائق سے انکار
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ابتدائی دور میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایران کی حکومت کو گرانے کے لیے اپنی فضائی طاقت کو کافی بتایا تھا۔ لیکن واقعیت میں ان کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ ایران کی حکومت ابھی بھی قائم ہے۔
نیوزپے اے آئی
2/6/2026•
2 منٹ پڑھنے کا وقت