بھارت اور امریکہ کے درمیان پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے پر 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، یہ بات بھارتی کامرس منسٹر پیوش گویل نے کہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تین روزہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایک وفد بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔ اس وفد کی قیادت اسسٹنٹ امریکہ ٹریڈ رپریزنٹیٹو برینڈن لینچ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فروری میں ابتدائی طور پر تجارتی معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے اقدامات کے بعد مذاکرات سست ہو گئے تھے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی ٹیرف کے اقدامات کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے بھارت سمیت کئی ممالک کے خلاف غیر منصفانہ تجارتی اقدامات کی تحقیقات شروع کیں۔ بھارتی کامرس منسٹر پیوش گویل نے کہا ہے کہ مذاکرات کار ہر چھوٹی چھوٹی بات پر غور کر رہے ہیں، یہ بات چیت کماں اور فل اسٹاپس کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ امریکہ کے امбасڈر سرجیو گور نے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ اس معاہدے پر آئندہ کچھ ہفتوں میں دستخط ہو جائیں گے۔ واشنگٹن اور نئی دہلی نے 2030 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 500 بلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے، دونوں ممالک کے درمیان مارچ سے کئی دور کی مذاکرات ہو چکی ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس کی حساس دودھ اور زرعی مصنوعات کی حفاظت کرتا ہے اور برآمدات کے لیے 30 کھرب ڈالر کا مارکیٹ کھولتا ہے۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کا 99 فیصد کام مکمل
بھارت اور امریکہ کے درمیان پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے پر 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، یہ بات بھارتی کامرس منسٹر پیوش گویل نے کہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تین روزہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایک وفد بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔
نیوزپے اے آئی
2/6/2026•
1 منٹ پڑھنے کا وقت