ترک صدر رجب طیب ایردوان نے حال ہی میں اسرائیل اور یونان کے ساتھ تریپارٹائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد علاقائی سیاست میں نئی گھمسان کی Situation پیدا ہو گئی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی کشیدگی کی Situation تھی اور اب یہ معاہدہ اس کشیدگی کو اور بڑھا سکتا ہے۔ دوسری طرف مصر بھی اس معاہدے کو لے کر اپنی تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ مصر کے سرکاری ذرائع کے مطابق وہ اس معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے کیونکہ وہ اسے اپنی علاقائی پالیسی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد مصر کے ساتھ ترکی کے تعلقات بھی کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران یا اسرائیل کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ علاقائی استحکام کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن ایران اور اسرائیل دونوں ہی اس معاہدے کو اپنے خلاف سمجھ رہے ہیں۔ اسرائیل کے صدر نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے اور اس کا مقصد ایران کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گردی کے خلاف کام کرنا ہے۔ دوسری طرف ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق وہ اس معاہدے کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں اور اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
ترکی، اسرائیل اور یونان کے درمیان تریپارٹائی معاہدے کی اہمیت
ترکی، اسرائیل اور یونان کے درمیان تریپارٹائی معاہدے کے بعد علاقائی سیاست میں نئی گھمسان کی Situation پیدا ہو گئی ہے۔ یہ معاہدہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد مصر کی طرف سے رد عمل کی توقع کی جا رہی ہے۔
نیوزپے اے آئی
17/8/2026•
1 منٹ پڑھنے کا وقت