ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ شیراز ایئر بیس سے اڑان بھرنے والے ان پائلٹوں نے قطر میں واقع ’امریکی فوجی اڈے کو بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا، تاہم واپسی کے دوران ان کے طیارے دفاعی کارروائی کی زد میں آ گئے۔ اب یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ تین پائلٹ کئی ماہ سے قطر اور امریکہ کی تحویل میں ہیں۔ ایران یہ معاملہ اب کیوں اٹھا رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف ایک پائلٹ کی لاش ملی تھی تو باقی تین پائلٹوں کے بارے میں واضح معلومات کیوں نہیں دی جا رہی ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق، ان پائلٹوں نے امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا، لیکن واپسی پر ان کے طیارے کو مار گرا یا گیا تھا۔ ایران نے اس معاملے کو اب اٹھایا ہے اور امریکہ اور قطر سے ان پائلٹوں کی لاش کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس معاملے پر بحث کر رہے ہیں اور سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ایران نے اس معاملے کو اب کیوں اٹھایا ہے اور ان پائلٹوں کی لاش کی واپسی میں تاخیر کیوں ہوئی۔
ایران کے تین پائلٹوں کی لاش کی واپسی: کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں
ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ تین پائلٹوں نے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو نقصان پہنچایا تھا۔ ایران نے اب ان پائلٹوں کی لاش کی واپسی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ان پائلٹوں کی لاش کی واپسی میں تاخیر کیوں ہوئی۔
نیوزپے اے آئی
16/8/2026•
1 منٹ پڑھنے کا وقت