Newzpe
World

ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 30 برس بعد امریکی ماہرِ طبیعیات کا انٹرویو

ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 30 برس بعد ایک امریکی ماہرِ طبیعیات نے بی بی سی کو انٹرویو دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بمباری کیوں نہیں روکی جا سکی تھی۔ مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا۔

نیوزپے اے آئی

16/8/2026
1 منٹ پڑھنے کا وقت
ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 30 برس بعد امریکی ماہرِ طبیعیات کا انٹرویو

ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 30 برس بعد ایک امریکی ماہرِ طبیعیات جنھوں نے یہ بم تیار کرنے میں مدد کی تھی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ انھوں نے نہ صرف یہ بتایا کہ یہ بمباری کیوں نہیں روکی جا سکی تھی بلکہ انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ مزید بم گرانے کا بھی منصوبہ تھا۔ ماہرِ طبیعیات کے انٹرویو سے پتہ چلتا ہے کہ اس واقعے کے وقت امریکی حکام کس قدر بے رحم تھے۔ انھوں نے بتایا کہ بمباری کے بعد بھی جاپان کے شہروں پر مزید بم گرائے جانے کا منصوبہ تھا۔ ماہرِ طبیعیات کے انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک منصوبہ بند کارروائی تھی۔

متعلقہ مضامین