Newzpe
Pakistan

کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کی کہانی، علمائے اسلام (ف) کے الزامات کی حقیقت

علمائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر فضل الرحمٰن کے الزامات کے بعد کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کی کہانی ایک بار پھر चरچا میں آ گئی ہے۔ یہ واقعہ 1999 کی کارگل جنگ سے متعلق ہے۔

نیوزپے اے آئی

23/7/2026
2 منٹ پڑھنے کا وقت
کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کی کہانی، علمائے اسلام (ف) کے الزامات کی حقیقت

علمائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر فضل الرحمٰن نے حال ہی میں ایک الزام لگایا ہے کہ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران پاکستان کی فوج نے اپنے اہلکاروں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کیپٹن کرنل شیر خان کی میت بھی انڈیا ہی کے اصرار پر پاکستان واپس لائی گئی۔ یہ الزامات پاکستان کی فوج اور اس کے اہلکاروں کی شہادت اور قربانی کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کی کہانی بہت ہی عظیم قربانی اور شہادت کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ واقعہ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران پیش آیا تھا جب پاکستان کی فوج نے بھارتی فوج کے خلاف کارگل کی وادی میں لڑائی لڑی تھی۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی اور ان کا نام پاکستان کی فوج کی تاریخ میں سونے کے حروف سے لکھا گیا۔ علمائے اسلام (ف) کے الزامات کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کیسے ہوئی۔ تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ کیپٹن کرنل شیر خان کی میت دو ہفتے بعد انڈیا سے پاکستان پہنچنے کی کہانی ایک عظیم قربانی کی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان کی فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کے لیے بھارتی فوج کے ساتھ تعاون کیا اور ان کی میت کو واپس لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ یہ واقعہ پاکستان کی فوج کی بہادری اور قربانی کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج اپنے اہلکاروں کی لاشیں وصول کرنے سے کبھی بھی انکار نہیں کرتی۔ علمائے اسلام (ف) کے الزامات کے بعد کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی واپسی کی کہانی ایک بار پھر चरچا میں آ گئی ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج اپنے اہلکاروں کی شہادت اور قربانی کے بارے میں ہمیشہ وفادار رہتی ہے۔

متعلقہ مضامین