وفاقی وزیر منصوبہ بندی آحسن اقبال نے کہا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں کمی ایک نئی سرکلر قرض کا بحران ہے۔ سالانہ منصوبہ بندی همآہنگی کمیٹی نے ریکارڈ 4.715 کھرب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش کیا ہے جو کہ ملک کے تاریخ میں سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اس پروگرام میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1.126 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، وزیر منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ یہ رقم ان کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے اور انہوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ کم سے کم 2.9 کھرب روپے کی مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر کام آٹھ سال سے رک گیا ہے اور اس کی وجہ سے ملک کی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ رقم مختص کی جائے تاکہ ملک کی ترقی کی ضروریات پوری کی جا سکے۔ سالانہ منصوبہ بندی همآہنگی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ محدود وسائل کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر کام کریں گے اور ان کی ترجیح-strategic اور ہائی امپیکٹ منصوبوں کو دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ان منصوبوں کو ترجیح دیں گے جو 70 فیصد سے زیادہ مکمل ہو چکے ہیں اور ان کی تکمیل کے لیے ضروری وسائل مختص کیے جائیں گے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام میں کمی، وزیر منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی سرکلر قرض کا بحران ہے
وفاقی وزیر منصوبہ بندی آحسن اقبال نے کہا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں کمی ایک نئی سرکلر قرض کا بحران ہے۔ سالانہ منصوبہ بندی همآہنگی کمیٹی نے ریکارڈ 4.715 کھرب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش کیا ہے۔
نیوزپے اے آئی
2/6/2026•
1 منٹ پڑھنے کا وقت